نئی دہلی، 2 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نتیش کٹارا قتل معاملے میں وکاس یادو، اس کے چچا زاد بھائی وشال اور ان کے ساتھی سکھ دیو پہلوان کی سزا کی مدت پر کل فیصلہ کرے گا۔کٹارا کو 2002میں قتل کر دیا گیا تھا اور ان تینوں کواس سنسنی خیز معاملے میں مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس سی ناگپن کی بنچ وکاس اور وشال کی طرف سے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف دائر کی گئیں اپیلوں پر فیصلہ سنائے گی۔دہلی ہائی کورٹ نے ان کی عمر قید کی سزا کسی رعایت کے بغیر 25سال تک کے لیے بڑھا دی تھی اور ثبوت کو تباہ کرنے کے لیے 5 سال کی اضافی سزا دی تھی۔ہائی کورٹ نے کٹارا کے قتل کوجھوٹی شان کے لیے قتل قرار دیا تھا۔وکاس اور وشال کے ساتھی سکھ دیو یادو عرف پہلوان کی عمر قید کی سزا بھی کسی رعایت کے بغیر 25سال تک کے لیے بڑھا دی گئی تھی۔عدالت نے ان کی طرف سے کئے گئے جرم کو’ریئرسٹ آف دی ریئر‘ کے زمرہ کا قرار دیا تھا، لیکن یہ کہتے ہوئے پھانسی کی سزا نہیں سنائی تھی کہ ان کی اصلاح اور بازآبادکاری کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے 17؍اگست 2015کو وکاس ، وشال اور سکھ دیو کی سزا کو برقرار رکھا تھا اور کہا تھا کہ اس ملک میں صرف مجرم ہی انصاف کے لیے شور مچا رہے ہیں۔عدالت عظمی نے سزا کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ہائی کورٹ کی طرف بڑھائی گئی تینوں قصورواروں کی سزا کی مدت کے سلسلے میں محدود پہلو پر درخواستوں پر الگ الگ غور کرے گی ۔اس نے سزا کی مدت کی گنجائش پر دہلی حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا اور چھ ہفتے کے اندر جواب طلب کیا تھا۔